حج و عمرہ اسلام کے روشن ستونوں میں سے ہیں۔ عمرہ کو “چھوٹا حج” بھی کہا جاتا ہے لیکن اس کی فضیلت بہت بڑی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کے گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے پانی میل کو دھو ڈالتا ہے۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ عازمین (جانے والے) کو مسائل کی ناواقفیت کی وجہ سے پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ اس لیے زیرِ نگاہ کتابچے میں ہم نے عمرہ کا طریقہ کار آسان اور عام فہم انداز میں تحریر کر دیا ہے۔
اس کتابچے میں گھر سے روانگی سے لے کر عمرہ کی ادائیگی اور مدینہ منورہ میں حاضری کے آداب کو قدم بہ قدم بیان کیا گیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے لیے اور ہمارے لیے بھی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“عمرہ سے عمرہ ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری و مسلم)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حج و عمرہ فقر و فاقہ کو دور کرتے ہیں اور گناہوں کو اس طرح مٹاتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر صاحب استطاعت مسلمان کے دل میں بیت اللہ پہنچنے کی تڑپ ہوتی ہے۔
گھر سے نکلنے سے پہلے چند امور کو طے کر لینا بہت ضروری ہے۔ اگر انہیں نظر انداز کر دیا گیا تو عمرہ تو ہو جائے گا لیکن دوسروں کے حقوق میں کمی رہ جائے گی۔
پہلا کام: اپنے رب سے معافی مانگیں
سابقہ گناہوں سے دل ہی دل میں توبہ کریں اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کریں۔ یاد رکھیں! مقصد اللہ کی رضا ہے، کسی کو دکھانا یا بتانا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔
دوسرا کام: لوگوں کے حقوق ادا کریں
اگر کسی کا آپ پر قرض ہے تو اسے ادا کر دیں۔ اگر وقت پر ادا نہیں کر سکتے تو قرض خواہ سے اجازت لے لیں۔ جس سے لڑائی جھگڑا ہوا ہو، اس سے معاف کرا لیں۔ بغیر اجازت کی کوئی امانت ہو تو وہ واپس کر دیں۔
تیسرا کام: اہل و عیال کا خرچہ مقرر کریں
اپنے پیچھے گھر والوں کے لیے اتنا خرچہ چھوڑ جائیں کہ وہ آپ کی واپسی تک آسانی سے گزارا کر سکیں۔
چوتھا کام: سامان سفر مکمل کریں
اگلے صفحے پر دی گئی فہرست کے مطابق اپنا بیگ تیار کر لیں تاکہ وہاں جا کر کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔
مندرجہ ذیل چیزیں اپنے ساتھ ضرور رکھیں:
(2) عدد سفید چادریں احرام کے لیے، (1) عدد استری کپڑے دبانے کے لیے، (1) عدد اسکارف یا ٹوپی، (10) گز رسی سامان باندھنے کے لیے، (1) عدد ہوائی چپل ایسی جس سے پاؤں کی ہڈیاں کھلی رہیں، (1) عدد بیلٹ احرام باندھنے کے لیے، (2-3) عدد سوٹ پہننے کے لیے، (1) عدد جائے نماز، (1) عدد مسواک یا برش، (1) عدد چھوٹی چٹائی، (2) عدد پانی کی بوتلیں، دوائیاں بخار نزلہ درد کی، موبائل فون اور سعودی عرب کی سم، (1) عدد قینچی بال کٹوانے کے لیے، (1) عدد تولیہ، (1) عدد قرآن پاک یا اسمارٹ فون میں تلاوت کی ایپلیکیشن، اور (2) عدد اضافی چارج شدہ پاور بینک۔
لغت میں احرام کے معنی ہیں: “کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینا۔“
شرعی اعتبار سے جب آپ عمرہ کی نیت کر کے “لبیک اللہم لبیک“ کہتے ہیں تو آپ محرم بن جاتے ہیں اور احرام کی پابندیاں آپ پر عائد ہو جاتی ہیں۔
پہلے غسل کر لیں (اگر ممکن ہو) ورنہ وضو کر لیں۔
اپنے معمول کے کپڑے اتار کر دو سفید چادریں پہنیں۔ ایک چادر کمر سے نیچے تک باندھیں اور دوسری چادر اوپر کندھوں پر ڈال لیں۔
خوشبو بالکل استعمال نہ کریں۔
کھلی چپل پہنیں (جوتے ممنوع ہیں)۔
دو رکعت نفل ادا کریں (اگر مکروہ وقت نہ ہو)۔
خواتین کو کوئی خاص لباس نہیں پہننا۔ وہ اپنے معمول کے کپڑوں میں رہ سکتی ہیں البتہ چہرے پر نقاب یا کپڑا اس طرح نہ ڈھانپیں کہ چہرے سے لگ جائے۔ بغیر خوشبو والے کپڑے پہنیں۔
اب قبلہ رخ ہو کر دل میں نیت کریں:
“اے اللہ! میں تیری رضا کے لیے عمرہ کرتا ہوں، مجھے آسان فرما اور قبول فرما!”
اس کے بعد تین مرتبہ بلند آواز سے (خواتین آہستہ) تلبیہ پڑھیں:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
اب آپ محرم بن چکے ہیں۔ جب تک عمرہ مکمل نہ ہو جائے، بار بار تلبیہ پڑھتے رہیں۔
جب تک آپ احرام کی حالت میں ہوں، درج ذیل کام حرام ہیں۔ ان کا جان بوجھ کر کرنے پر دم (قربانی) واجب ہو جاتی ہے۔
سر یا چہرہ ڈھانپنا (صرف مردوں کے لیے)
سلا ہوا کپڑا پہننا (قمیص، پاجامہ، جرابیں، جوتیاں – مردوں کے لیے)
خوشبو لگانا (چاہے کپڑوں پر ہو یا جسم پر)
خوشبودار تیل یا صابن کا استعمال
بال کٹوانا یا اکھاڑنا
ناخن کاٹنا
شہوت سے ہاتھ لگانا یا مباشرت کرنا
شکار کرنا یا شکار میں مدد کرنا
عورتیں اپنا چہرہ نہ ڈھانپیں۔ البتہ ہاتھ کا سایہ کر سکتی ہیں۔ جرابیں اور جوتیاں پہن سکتی ہیں۔
جب آپ مکہ پہنچ کر مسجد حرام میں داخل ہوں تو دائیں پاؤں سے داخل ہوں اور یہ دعا پڑھیں
“بِسْمِ اللَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ“
کعبہ کی پہلی نظر آتے ہی دل کھول کر دعا مانگیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دعائیں رد نہیں ہوتیں۔
مرد حضرات اضطباعکریں یعنی دایاں کندھا کھلا رکھیں اور چادر بغل کے نیچے سے ڈالیں۔
حجر اسود کی طرف منہ کر کے نیت کریں: “یا اللہ! میں تیری رضا کے لیے عمرہ کے سات چکروں کی نیت کرتا ہوں۔“
حجر اسود کو بوسہ دیں یا ہاتھ لگا کر چومیں (اگر ہجوم ہو تو ہاتھ کے اشارے سے)۔
اب طواف شروع کریں۔
پہلے تین چکروں میں رملکریں یعنی تیز تیز قدم اٹھائیں، کندھے ہلاتے ہوئے چلیں۔
بقیہ چار چکر عام رفتار سے چلیں۔
ہر چکر میں حجر اسود کا استلام کریں (ہاتھ لگائیں یا اشارہ کریں)۔
رکن یمانی (بیت اللہ کا جنوب مغربی کونہ) پر ہاتھ پھیریں اور دعا مانگیں۔
دونوں رکنوں کے درمیان یہ دعا پڑھیں
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“
سات چکر مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم پر جا کر دو رکعت نماز ادا کریں۔ یہ واجب الطواف نماز ہے۔ پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری میں سورہ اخلاص پڑھنا سنت ہے۔
نماز کے بعد زمزم کھڑے ہو کر خوب پییں۔ تین سانسوں میں پیئں اور یہ دعا پڑھیں:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا وَاسِعًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ“
طواف کے بعد اب سعی کرنی ہے۔
طریقہ
صفا پہاڑی پر آئیں اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں۔
نیت کریں: “یا اللہ! میں تیری رضا کے لیے سعی کرتا ہوں۔“
تین مرتبہ اللہ اکبراور تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہیں۔
صفا سے مروہ کی طرف چلیں۔
اہم بات
جب آپ دو سبز نشانوں (میلین اخضرین) کے درمیان پہنچیں تو مرد حضرات دوڑیں جتنی تیزی سے ہو سکے اور یہ دعا پڑھیں:
“رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ“
مروہ پہنچ کر پھر بیت اللہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگیں۔ یہ ایک چکر مکمل ہوا۔
اب مروہ سے صفا کی طرف واپس لوٹیں (دوسرا چکر)۔ اس طرح صفا سے مروہ تک سات چکر مکمل کریں۔ ساتواں چکر مروہ پر ختم ہو گا۔
سعی مکمل ہونے پر اگر چاہیں تو مسجد حرام میں دو رکعت نفل پڑھ سکتے ہیں۔
یہ عمرہ کا آخری اور بہت اہم مرحلہ ہے۔
مردوں کے لیے:
سر کا بال مکمل طور پر منڈوا دینا بہتر ہے (افضل)۔
یا پھر سر کے چوتھائی حصے کے بالوں کو ایک پورے کے برابر کٹوا دیں۔
خواتین کے لیے:
خواتین تمام بال اکٹھے کر کے صرف ایک پورے کے برابر بال کٹوا لیں۔ سر منڈوانا یا چوتھائی حصہ کٹوانا ضروری نہیں۔
⛔ خبردار:
کچھ لوگ مشین سے صرف ایک دو جگہ کے بال کاٹ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ احرام کھل گیا۔ ایسا ہرگز نہ کریں۔ اگر آپ نے صرف تھوڑے سے بال کاٹے تو آپ کا احرام نہیں کھلے گا اور اگر آپ نے سکے ہوئے کپڑے پہن لیے تو آپ پر دم (قربانی) واجب ہو جائے گی۔
اب حلق یا قصر کرنے کے بعد آپ کا عمرہ مکمل ہو گیا۔
احرام کی چادریں اتار دیں، معمول کے کپڑے پہن لیں۔ تمام پابندیاں ختم ہو گئیں۔
اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو یہ سعادت عطا فرمائی۔
اگر آپ مدینہ منورہ بھی جانا چاہیں تو یہ آداب ضرور پڑھیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا، میرے لیے اس کی شفاعت واجب ہو جائے گی۔“
مدینہ پہنچ کر پہلے غسل کریں، عمدہ کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں (اگر احرام نہ ہو) اور ادب و احترام سے مسجد نبوی میں دائیں پاؤں سے داخل ہوں۔
داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں:
“بِسْمِ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ“
اس کے بعد دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھیں (اگر مکروہ وقت نہ ہو)۔
روضہ مبارک پر سلام عرض کرنے کا طریقہ:
روضہ کی جالی کے سامنے مبارک کھڑے ہو کر یوں سلام کہیں:
“السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ“
“السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ“
“السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبُ اللَّهِ“
پھر ایک قدم دائیں ہٹ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سلام کریں اور پھر دوسرے قدم ہٹ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سلام کریں۔
جتنے دن مدینہ میں رہیں، کثرت سے درود شریف پڑھیں، مسجد نبوی میں نماز باجماعت کا اہتمام کریں اور جنت البقیع، مسجد قبا، میدان احد کی زیارت کریں۔
سوال 1: کیا عورت بغیر محرم کے عمرہ کر سکتی ہے؟
جواب: جی نہیں۔ عورت کے لیے بلا محرم سفر کرنا منع ہے۔
سوال 2: کیا احرام میں سونا جائز ہے؟
جواب: جی ہاں، پوری طرح جائز ہے۔ بس سر یا چہرہ چادر سے نہ ڈھانپیں۔
سوال 3: اگر طواف میں شک ہو جائے کہ 4 چکر لگائے ہیں یا 5؟
جواب: کم چکروں کا اعتبار کریں (یعنی 4) اور باقی چکر لگا کر مکمل کریں۔
سوال 4: کیا عمرہ کے بعد دوبارہ عمرہ کیا جا سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، جتنی بار چاہیں عمرہ کر سکتے ہیں۔
سوال 5: کیا عورت ماہواری (حیض) کی حالت میں طواف کر سکتی ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ پاک ہونے کے بعد غسل کر کے طواف کیا جائے۔
سوال 6: کیا بچوں کا عمرہ ہو جاتا ہے؟
جواب: جی ہاں، بچوں کا عمرہ ہو جاتا ہے اور والدین کو اس کا اجر بھی ملتا ہے۔
سوال 7: احرام کی حالت میں خوشبو استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: نہیں، احرام کی حالت میں خوشبو لگانا منع ہے۔
سوال 8: کیا موبائل استعمال کرنا یا تصویر بنانا جائز ہے؟
جواب: ضرورت کے مطابق موبائل استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن عبادت میں خشوع و خضوع کو ترجیح دینی چاہیے۔
سوال 9: کیا عمرہ ایک دن میں مکمل ہو سکتا ہے؟
جواب: جی ہاں، اگر رش کم ہو تو چند گھنٹوں میں بھی عمرہ مکمل کیا جا سکتا ہے۔
سوال 10: عمرہ کے دوران کون سی دعا زیادہ پڑھنی چاہیے؟
جواب: استغفار، درود شریف، تلبیہ، اور اپنے لیے و امتِ مسلمہ کے لیے دعائیں زیادہ پڑھنی چاہئیں۔
الحمدللہ! آپ نے عمرہ کا مکمل طریقہ کار پڑھ لیا۔
یاد رکھیں! عمرہ صرف طواف اور سعی کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب آپ بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو دل سے دعا کریں، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اپنے والدین، اہل خانہ اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کریں۔
اگر آپ عمرہ کے تمام مراحل کو تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمارا یہ مکمل رہنما ضرور پڑھیں
عمرہ کرنے کا مکمل طریقہ – انگلش میں مکمل مرحلہ وار رہنمائی
اگر آپ اپنی سہولت اور بجٹ کے مطابق عمرہ پیکج منتخب کرنا چاہتے ہیں تو یہ صفحہ ملاحظہ کریں
پاکستان سے اپنی پسند کا عمرہ پیکج حاصل کریں
مزید رہنمائی، معلومات اور بہترین سفری سہولیات کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں
اسلام آباد کی بہترین ٹریول ایجنسی
اللہ تعالیٰ ہمارے اور آپ کے اعمال قبول فرمائے اور ہمیں بار بار بیت اللہ کی حاضری نصیب فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
Don't have an account? Register
Do you already have an account? Log In
Please enter your username or email address. You will receive a link to create a new password via email.